حملوں کا آغاز اور اہداف
یہ کارروائیاں ایسی وقت شروع ہوئی جب بلوچستان میں کئی شدت پسند گروپس، خاص طور پر بچی ہوئی بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے صوبے کے مختلف شہروں میں اچانک ایک ہی وقت میں حملے شروع کئے۔ ان حملوں کو منظم انداز میں انجام دینے کے لئے عسکریت پسندوں نے آپریشن ہروف (Operation Herof) نامی پروجیکٹ کا آغاز کیا، جس کے تحت تقریباً 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر، مستونگ، اور دیگر اضلاع میں حملے ہوئے جن کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، عام شہری اور سرکاری اہلکار سب متاثر ہوئے۔
ان حملوں میں سب سے زیادہ توجہ تھانے اور مقامی انتظامی دفاتر پر دی گئی۔ یہ حملے واضح طور پر اس مقصد کے لئے تھے کہ ریاستی مشینری کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلایا جائے۔ دہشت گردوں نے پولیس سٹیشنوں پر حملے کئے، ان کی گاڑیاں نذر آتش کیں، دفاتر، والٹس، فائرنگ اور دھماکوں کے ذریعے بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان گھنٹوں تک شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ڈپٹی کمشنر کا یرغمال ہونا
اس کارروائی کے دوران سب سے چونکا دینے والا واقعہ نوشکی ضلعی انتظامیہ کے ڈپٹی کمشنر کے اغوا کا تھا۔ شدت پسندوں نے حملے کے دوران ڈپٹی کمشنر اور اُن کے اہل خانہ کو اپنے ساتھ لے لیا، جس سے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو گئی۔ اغوا کے کچھ دیر بعد ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی جس میں ڈپٹی کمشنر کو قید میں دکھایا گیا، جس نے قوم میں خوف و اضطراب کو مزید بڑھا دیا۔
تاہم فورسز نے جلد ہی صورتحال کو سنبھالا اور ایک مربوط آپریشن کے ذریعے ڈپٹی کمشنر کو محفوظ حالت میں آزاد بھی کروایا۔ اس آپریشن میں حساس انٹیلیجنس معلومات، راہگیروں کی معلومات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی رہنماؤں کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کو اغوا کاروں کے ٹھکانے تک رسائی ملی۔
سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اور جھڑپیں
یہ حملے شروع ہونے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں جوابی کارروائیاں کیں۔ فوج، پولیس، فرنٹیئر کور، رینجرز اور دیگر انسداد دہشت گردی دستوں نے ایک مربوط آپریشن کے تحت شدت پسندوں کے خلاف زبردست مقابلہ کیا۔ ابتدائی دنوں میں ہی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو پسپا کیا، کئی ٹھکانوں پر ریڈ کی گئی اور بھاری تعداد میں عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق، گزشتہ چند دنوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے کم سے کم 177 شدت پسندوں کو ہلاک کیا، جبکہ حملوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے متعدد جوان بھی شہید یا زخمی ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ حالات کنٹرول میں ہیں اور علاقہ کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی آپریشنز نہ صرف شہر میں بلکہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں بھی جاری رہے، جہاں شدت پسند اکثر چھپتے تھے۔ مقامی آبادی کی مدد سے فورسز نے کئی خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور وسیع پیمانے پر انسداد دہشت گردی کارروائیاں کیں جن میں بارودی سرنگوں کا پتا لگا کر انہیں ناکارہ کیا گیا۔
شہریوں اور مقامی آبادی کی حالت
یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کے لئے بھی تباہ کن ثابت ہوئے۔ متعدد جگہوں پر بنک لوٹے گئے، بازار بند ہوئے، دفاتر مقفل کئے گئے اور لوگ خوف و ہراس کی وجہ سے گھروں میں محصور رہ گئے۔ مختلف دھماکوں اور فائرنگ کے حادثات میں سیکڑوں شہری زخمی ہوئے یا ہلاک بھی ہوئے، جس سے پورے صوبے میں احتجاج اور غم و غصے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے مل کر زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا، جبکہ متاثرین کے لواحقین کو مالی امداد اور تعاون فراہم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مقامی رہنماؤں نے امن بحال رکھنے کے لئے عوامی جلسے کئے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا مستقل حل نکالے۔
حالیہ صورتحال اور مستقبل
پولیس، فوج، اور دیگر سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بلوچستان کے چیف منسٹر نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پُرعزم ہے اور کوئی بھی شدت پسند گروپ ملک کے اندر امن و امان تباہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فورسز کے تعاون سے مزید موثر انٹیلیجنس سسٹمز اور نگرانی کے طریقے نافذ کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو پہلے سے روکا جا سکے۔
متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، اور انسداد دہشت گردی کے لئے مزید وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ اسی دوران، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں جو نقصان ہوا ہے اسے جلد از جلد پورا کیا جائے گا،
No comments:
Post a Comment