پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جن میں خاص طور پر خطے کی سیکیورٹی اور اس کے چیلنجز، دفاعی میدان میں تیز ترین تعاون کے مواقع اور مشترکہ میری ٹائم آپریشنز شامل تھے ۔
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے سمندری راستوں کی حفاظت، سمگلنگ اور قزاقی کے خلاف کوششوں، اور بحری استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا مفصل خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے ان اقدامات کو خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگ بنیاد قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ذیاب بن صقر النعیمی نے اس موقع پر پاکستان نیوی کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو نہایت سراہا، خصوصاً اُن کے عزم، تربیتی معیار اور علاقائی سطح پر میری ٹائم سیکیورٹی میں قائدانہ کردار پر زور دیا ۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی رشتے کو مزید مستحکم اور جامع بنایا جائے، اس میں تربیت، مشترکہ آپریشنز اور علم و حکمت کی تبادلے کی گنجائش کو بڑھایا جائے ۔
اس ملاقات کے بعد پاکستان اور بحرین کے دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی اور قوت پیدا ہونے کی امید کی جا رہی ہے، خاص طور پر مسلح افواج کے درمیان پیشہ وارانہ روابط، مشترکہ مشقیں اور علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کی نئی راہوں کے حوالے سے ۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات سے قبل لیفٹیننٹ جنرل النعیمی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی تھی، جہاں باہمی دفاعی تربیت اور ملٹی ڈومین آپریشنز پر تبادلہ خیال ہوا تھا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بحرین پاکستان کے عسکری اداروں کے ساتھ جامع تعاون کا خواہاں ہے، خواہ وہ بحری ہو یا فضائی، اور دفاعی شعبے میں جدید تربیت و حکمت عملیوں کا تبادلہ چاہتا ہے۔
مفصل تجزیہ و تاث
- عسکری سطح پر مضبوط تعلقاتاس ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور بحرین کی افواج میں مضبوط پیشہ وارانہ روابط موجود ہیں اور مستقبل میں یہ تعاون مزید مستحکم بنانے کا عزم دونوں جانب ہے۔
- تربیتی اور سیکیورٹی تعاونپاکستان نیوی کے ریجنل میری ٹائم پٹرولز جیسے اقدامات سے صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بحری سیکیورٹی کو تقویت ملی ہے۔ بحرین نے اس کوشش کو سراہا اور اس سلسلے کو آگے لیجانے کا عندیہ دیا۔
- دفاعی حکمت عملی کا تبادلہملٹی ڈومین آپریشنز (یعنی زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں ملاپ) پر ہونے والی گفتگو ایک واضح اشارہ ہے کہ بحرین پاکستان کی عسکری تربیت اور حکمت عملی میں دلچسپی رکھتا ہے۔
- خوشگوار سفارتی پس منظریہ سلسلہ ملاقاتیں، پاکستان اور بحرین کے درمیان نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی و ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیتا ہے، جو باہمی اتحاد اور مشترکہ امن و استحکام کے لیے اہم ہے
No comments:
Post a Comment