Tuesday, September 2, 2025

دریاؤں میں سیلابی ریلوں اور بہاؤ کی صورتحال — مکمل تجزیہ

اسلام آباد (2 ستمبر 2025)  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں سیلابی ریلوں اور پانی کے بہاؤ کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

چناب کا سیلابی ریلا: تریموں سے آغاز

این ڈی ایم اے کے مطابق یکم ستمبر کو دریائے چناب میں ہیڈ تریموں سے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر چکا ہے، جو فی الحال پنجند کی طرف رواں دواں ہے۔ ابتدائی طور پر 8 لاکھ 85 ہزار کیوسک کے خطرناک بہاؤ کو حکمت عملی، بروقت اقدامات اور منصوبہ بندی کے تحت کم کر کے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک محدود کیا گیا، جو خود ہیڈ تریموں سے گزر چکا ہے۔


پنجند: سیلابی ریلوں کا سنگم

پنجند ہیڈ ورکس سے صرف 6 لاکھ 50 ہزار کیوسک کے بہاؤ کی گنجائش موجود ہونے کے باعث، مزید کسی بند توڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ امکان ہے کہ 3 ستمبر کو یہ ریلا پانچ لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ پنجند پر اکٹھے ہو جائے گا۔ مزید جامع رپورٹ کے مطابق، جب دریائے ستلج کا اضافی ریلا (80 ہزار تا 1 لاکھ کیوسک) شامل ہو جائے گا تو تینوں دریاؤں کا مجموعی بہاؤ 6 لاکھ 50 ہزار سے 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے  ۔


گڈو بیراج سے عبور: اگلے مراحل

اس وسیع سیلابی ریلے کا اگلا پڑاؤ گڈو بیراج ہے، جہاں یہ 6 ستمبر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہاں مجموعی بہاؤ قدرِ معمول کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ کیوسک کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم کوٹ مٹھن پر دریائے سندھ کی شمولیت سے پھر رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پلاننگ کے مطابق اس سنگم کو تونسہ کے مقام پر 2 لاکھ کیوسک تک محدود کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ گڈو ہیڈ ورکس پر یہ بہاؤ 6 لاکھ 50 ہزار سے 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، لیکن سنجیدہ انتظامات جاری ہیں  ۔


ساحلِ سمندر کی سمت: سمندر جانے والی راہ

اس سیلابی ریلے کا سفر سکھر اور کوٹری بیراج سے ہوتا ہوا 12 تا 13 ستمبر کو سمندر کی جانب روانہ ہونے کی توقع ہے، جو انتہائی سنجیدہ صورتحال کی نمائندہ ہے  ۔


انتظامی اقدامات اور عوامی ہدایات

وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی سختی سے شروع کر دی۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر چوبیس گھنٹے فعال ہے اور سول و عسکری اداروں کے ساتھ مستعد رابطہ جاری ہے۔ عوام کو فورا ڈیپارٹ کرنے، محفوظ مقامات پر منتقلی، مقامی انتظامیہ کے احکامات پر عمل، غیر ضروری سفر سے اجتناب، اور ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید رہنمائی کے لیے این ڈی ایم اے کی ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے  ۔


علاقائی پس منظر — پنجاب کی صورتحال

دریں اثنا، دنیا نیوز کے مطابق بھارت کی جانب سے ستلج میں اضافی پانی کا اخراج ہوا ہے، جس کے باعث پنجاب کے نو اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ چناب، راوی، اور ستلج دریاؤں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلا داخل ہوا، اور کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ دریں اثنا، متاثرہ باشندوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور مکانات، فصلیں، اور رابطہ راستے تباہ ہو چکے ہیں  ۔


عالمی تناظر: پاکستان میں آنے والے سب سے بڑے سیلاب

بین الاقوامی ذرائع رائے دیتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ مون سون سب سے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، جس میں دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں। صوبہ پنجاب کی ایک بڑی زرعی ریڑھ سمجھی جاتی ہے، تاہم شدید بارشوں اور پانی کا اخراج، دونوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ ہنگامی ٹیمیں ڈرونز کی مدد سے ریسکیو آپریشنز انجام دے رہی ہیں جبکہ لاکھوں رہائشیوں کو امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے  ۔


نتیجہ: آگے کا لائحہ عمل

خلاصہ: این ڈی ایم اے کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ بڑے سیلابی ریلا نے چناب، ستلج اور سندھ کو متاثر کیا، اور یہ انتظامی طور پر قابو میں رکھنے کی سخت کوششیں جاری ہیں۔ آئندہ چند دن انتہائی اہم ہیں—خاص طور پر 6، 12، اور 13 ستمبر—جب یہ ریلہ گڈو بیراج اور بعد میں سمندر کی جانب روانہ ہو جائے گا۔


No comments:

Post a Comment

پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششیں، آئی ایم ایف وفد کی آمد اور اہم مذاکرات

 بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جہاں اس نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتو...