سندھ میں پنجاب سے آنے والے خطرناک سیلابی ریلوں کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے زیرِ اثر علاقوں میں رہنے والے عوام سے فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقلی کی اپیل کر دی ہے۔
نیسل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات میں خاص طور پر نشیبی علاقوں میں منتقل ہونے والے گھرانوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے، اور یہ اپیل سندھ کے ضلعی حکام اور عوامی نمائندوں کے لیے بھیجی گئی ہے ۔
ممکنہ خطرہ اور حکومتی تیاری
پنجند پر سیلابی بہاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ اگر گڈو بیراج کے مقام پر 7 لاکھ کیوسک سے زائد پانی داخل ہوا تو گھوٹکی اور اوباوڑو تحصیل میں ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مذکورہ صورتحال کے پیشِ نظر پی ڈی ایم اے، آرمی، رینجرز، اور نیوی کو تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے، اور 192 ریسکیو کشتیاں خطرے سے دوچار علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں ۔
انتظامی اقدامات اور ریلیف کیمپوں کا قیام
وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ صوبے میں تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ 1,657 دیہات، 167 یونین کونسلز اور 273,000 خاندان اس خطرے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ اس سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے 551 ریلیف کیمپس قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، جہاں متاثر افراد کو خوراک، پانی اور رہائش فراہم کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں، پی ڈی ایم اے نے تقریباً 9,950 فرسٹ ایڈ کٹس اور متعدد موبائل ہیلتھ یونٹس ریلیف کیمپوں میں تعینات کر دیے ہیں ۔
سیلابی پٹوں کی نگرانی اور بندوں کی جانچ
وزیراعلیٰ نے خاص طور پر گڈو، سکھر، اور کوٹری بیراجز پر شدید نگرانی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ گڈو بیراج پر ممکنہ پانی بہاؤ 5 سے 6 ستمبر، جبکہ سکھر بیراج کے مقام پر ممکنہ سیلاب 6 سے 7 ستمبر تک جاری رہنے کا خدشہ ہے. کوٹری بیراج پر 8 سے 9 ستمبر کو انتہائی بلند بہاؤ متوقع ہے ۔
کچے کے عوام کی منتقلی شروع
اس خطرناک صورتحال میں ضلع گھوٹکی، خیرپور، کشمور کے کچے علاقوں میں رہنے والے لوگ خود محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں، کشتیوں کے ذریعہ اپنا سامان لے جانا شروع ہو چکا ہے، اور حکام کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے اہم مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں ۔
اہم بیانات اور سرکاری نکات
- وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کا کچا علاقہ دریا سے کم سطح پر ہے، جہاں سیلابی پانی دیر سے واپس جاتا ہے، اس لیے بندوں کی حفاظت ضروری ہے ۔
- گڈو سے سکھر تک انتظامیہ نے ایمیریجنسی مانیٹرنگ سیل قائم کیا ہے، جبکہ میڈیائی بیانات کے ذریعے عوامی آگاہی بھی جاری ہے ۔
- NDMA نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ روانگی کے راستے، امدادی ٹریک، اور مشینری کی آمادهگی کو یقینی بنایا جائے ۔
خلاصہ
یہ وقت سندھ کے کچے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے انتہائی حساس ہے کیونکہ ممکنہ “سپر سیلاب” اور تیز رفتار سیلابی ریلے ان کی زندگیوں اور مویشیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت اور فلاحی ادارے تمام دستیاب وسائل کو متحرک رکھتے ہوئے فوری انخلاء، ریلیف کیمپوں اور حفاظتی انتظامات پر کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ صورتحال سنگین ہے، حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ عوام کا تعاون اور بروقت منتقلی ہی بڑے انسانی نقصان کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے
No comments:
Post a Comment