انڈیا میں سانپ کے کاٹنے کو عام طور پر ایک غریب اور دیہی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر وہی علاقے ہیں جہاں لوگ زراعت یا جنگلات کے ساتھ قریبی طور پر جڑے ہوئے ہیں، اور جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس صورت حال میں فوری، باقاعدہ طبی علاج نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے شکار اپنے ابتدائی علاج کے لئے جڑی بوٹیوں یا مقامی دَرج (traditional healers) کی طرف جاتے ہیں، جو علمی طور پر مؤثر نہیں ہوتے اور وقت ضائع ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
سانپ کے کاٹنے کی حقیقتیں اور اثرات
انڈیا میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ سے زیادہ سانپ کے کاٹنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن میں سے لاکھوں میں زہر خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 80,000 سے 1,38,000 افراد سانپ کے زہر کے نتیجے میں ہلاک ہوتے ہیں، اور ان میں سے نصف سے زیادہ ہندوستان میں ہیں۔
سانپ کے زہر کے اثرات بہت مختلف ہو سکتے ہیں، جن میں خون کا جمنے نہ دینا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا، پھیپھڑوں یا گردوں کا فیل ہونا، درد، سوزش، ذہنی بے چینی، یا سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ مختلف سانپوں کا زہر مختلف نظاموں کو متاثر کرتا ہے مثلاً کچھ نیوروٹاکسن کے زہر سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ ہیماوٹاکسن خون اور ٹشوز کو نقصان پہنچاتا ہے۔
زیادہ تر اموات دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں، جہاں صحت کی سہولیات کمزور ہیں، راستے لمبے ہیں، اور لوگ عموماً دیر سے اس مسئلے پر طبی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو فوری طور پر اینٹی وینم تک رسائی نہیں ملتی، اور اگر مل بھی جائے تو علاج کا خرچہ ان کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوتا ہے۔
معاشرتی اور معاشی اثرات
سانپ کے کاٹنے کی چوٹ صرف کسی فرد کی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتی اس کا اثر پورے خاندان اور کمیونٹی پر پڑتا ہے۔ جب ایک خاندان کا کفیل یا کسی فرد کا معذوری کا شکار ہونا نصیب ہوتا ہے، تو خاندان کو بڑی طبی ادویات، اسپتال کے اخراجات، اور زندگی بھر علاج کے خرچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اخراجات اکثر ان لوگوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں جو پہلے ہی غریب یا کمزور معاشی حیثیت میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے سانپ کے زہر کو 2017 میں “ترجیحی نظر انداز شدہ گرمائی بیماری” قرار دیا، تاکہ عالمی اور مقامی سطح پر اس کے خلاف بہتر اقدامات اٹھائے جائیں۔
علاج اور بچاؤ کے مسائل
جہاں اینٹی وینم مؤثر علاج مانا جاتا ہے، وہیں اینٹی وینم کی دستیابی اور معیار ایک بڑا مسئلہ ہے۔ متعدد اینٹی وینمز مخصوص سانپوں کے زہر کے خلاف کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ بہت سے مقامات پر اینٹی وینم دستیاب ہی نہیں ہوتا۔
دیہی علاقوں میں جلدی علاج تک رسائی نہ ہونا، ناکافی ٹرانسپورٹ، ناقص سڑکیں، اور عوامی شعور کی کمی اس بحران کو بڑھا دیتی ہیں۔ بہت سے متاثرین ابتدائی علامات کو نظر انداز کرتے ہیں، جو بعد میں زہر کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے، یا وہ مقامی روایتی علاجوں پر انحصار کرتے ہیں جو وجود میں بہتری لانے میں کارآمد نہیں ہوتے۔
کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟
انڈیا حکومت نے سانپ کے کاٹنے کے مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی ایکشن پلان برائے روک تھام اور کنٹرول (NAPSE) شروع کیا ہے، جس کا مقصد 2030 تک سانپ کے زہر کی وجہ سے ہونے والی اموات کو نصف کرنا ہے۔ یہ پلان صحت نظام کو مضبوط بنانے، اینٹی وینم کی دستیابی بہتر بنانے، اور دیہی صحت کارکنوں کی تربیت جیسے اقدامات شامل کرتا ہے۔
کچھ ریاستیں مقامی طور پر اینٹی وینم پیدا کرنے اور عوامی شعور بڑھانے کے لئے خصوصی مہمات بھی چلا رہی ہیں، جبکہ NGOs اور مقامی رضاکار کمیونٹی میں تعلیم اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں آگاہی پھیلارہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد لوگوں کو زہر سے بچاؤ، ابتدائی علامات کی شناخت، اور بروقت پیشہ ورانہ علاج تک رسائی کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔
خلاصہ
سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات ایک سنگین لیکن نظر انداز شدہ صحت کا مسئلہ ہیں جو خاص طور پر انڈیا جیسے ترقی پذیر ممالک میں عام ہیں۔ لاکھوں افراد ہر سال زہر کے برا اثرات کا شکار ہوتے ہیں، اور غریب دیہی آبادی اس مسئلے کا سب سے برا شکار ہے۔ بہتر عوامی شعور، اینٹی وینم کی دستیابی، صحت کی سہولیات کی مضبوطی، اور بروقت طبی علاج ان اموات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عالمی اور مقامی سطح پر مزید تعاون، تحقیق، اور عملی اقدامات کے ذریعے اس بحران کو قابلِ حل بنایا جا سکتا ہے بشرط یہ کہ اسے اسی سنجیدگی اور ترجیح کے ساتھ دیکھا جائے جو ہر بڑے صحت بحران کو ملتی ہے
No comments:
Post a Comment