Wednesday, January 28, 2026

سانحہ گل پلازہ: جاں بحق 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم کراچی کا المناک واقعہ اور متاثرین کے اہل خانہ کے لئے سنگین چیلنج

 کراچی کے مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو پیش آنے والی خوفناک آگ نے پورے ملک کو غم زدہ کر دیا۔ اس بدترین سانحے میں دسوں خاندانوں نے اپنے پیارے کھو دیئے اور اب تک 70 سے زائد افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے بڑے پیمانے پر 40 افراد کی لاشوں کی شناخت کرنا ناممکن ہو گیا ہے  یہ وہ حقیقت ہے جو لواحقین اور قانونی ٹیموں کے لئے انتہائی سنگین چیلنج بن گئی ہے۔

گل پلازہ کی تباہ کن آتشزدگی میں گھروں سے نکل کر خریداری کرنے آئے افراد اس آگ کی لپیٹ میں آ گئے، جس نے صرف چند گھنٹوں میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ شعلوں نے عمارت کے اندر موجود نا صرف انسانوں کو بلکہ ان کی شناخت کے قابل جسمانی نشانات کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اسی وجہ سے اب تک تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں، اور باقیاتی نمونوں سے صرف 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نتائج آنے کی توقع ہے۔

 واقعے کا پس منظر: سانحہ کیسے ہوا؟

گل پلازہ کی آگ 17 جنوری کی رات لگنے والی تھی۔ ابتدائی تحقیقات اور تفتیشی رپورٹ کے مطابق یہ آگ ممکنہ طور پر ایک چھوٹے واقعے، جیسے پھولوں کی دکان پر کسی بے احتیاطی کے باعث شروع ہوئی، جس نے شدت پکڑتے ہی پوری عمارت کو گھیر لیا۔ آگ نے بہت تیزی سے ہر فلور پر پھیلنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے اندر موجود بہت سے لوگ اپنے پیاروں تک پہنچنے سے پہلے ہی شعلوں میں پھنس گئے۔

ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے دن رات محنت کر کے تقریباً 33 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد آگ پر قابو پایا، مگر تب تک نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا تھا۔ حالات اس قدر شدید تھے کہ انسانی باقیات میں سے صرف محدود تعداد میں ایسے نمونے مل سکے جن سے ڈی این اے نکالنے کی امید تھی۔

 شناخت کا عمل اور ڈی این اے کی مشکلات

حادثے کے بعد، حکام نے فوری طور پر سول ہسپتال کراچی میں ڈی این اے ٹیسٹنگ اور شناختی پروجیکٹ شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور شناختی ٹیم (CPLC آئیڈینٹیفیکیشن پروجیکٹ) نے کام شروع کیا، تاکہ جاں بحق افراد کی شناخت ہو سکے اور ان کی لاشیں ورثاء کے حوالے کی جاسکیں۔

تاہم، شدت سے جلنے کی وجہ سے جسمانی نشانات ویسے رہنمائی کرنے کے قابل نہیں رہے جیسے عام حادثات میں ہوتے ہیں۔ حتٰی کہ ہڈیاں اور دیگر بافتیں بھی راکھ میں تبدیل ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے ڈی این اے نمونے لینا بھی تقریباً ناممکن ہو گیا۔ اس لئے تقریبا 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

صرف چند محدود نمونوں سے 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نتائج آنے کا امکان ہے، جب کہ باقی افراد کی باقیات میں ڈی این اے بالکل بھی محفوظ نہیں بچے جس سے شناخت ممکن ہو سکے۔

 ڈی این اے کے علاوہ دیگر شناختی طریقے

جب جسمانی خصوصیات، فنگر پرنٹس، یا ڈی این اے قابلِ استعمال نہ ہوں، تو عام طور پر شناخت کے لئے دیگر ذرائع کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس سانحے میں حکام نے لواحقین سے ڈی این اے سیمپلز، فون ڈیٹا، کپڑوں اور ذاتی اشیاء کی معلومات بھی اکٹھی کی ہیں تاکہ دیگر ممکنہ ثبوتوں سے شناخت میں مدد مل سکے۔

ایسی صورت میں، اگر کوئی شخص مستند طور پر اس مقام پر موجود تھا اور اس کی موبائل لوکیشن، ویڈیو یا فون کالز سے اس کی موجودگی ثابت ہوتی ہے، تو قانونی گواہوں اور دیگر شواہد کی روشنی میں کچھ باقیات اہلِ خانہ کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہے جس میں قانونی اور انتظامی فیصلے شامل ہیں۔

 لواحقین کا صبر اور امید

سانحہ گل پلازہ نے صرف جسمانی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ بہت سے خاندانوں کو اصل شناخت اور بندھن ختم ہونے کے صدمے کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے اہلِ خانہ اب تک اپنے عزیزوں کی لاشوں کی شناخت نہ ہونے کے باعث صبر و تحمل کے آزمائش میں مبتلا ہیں۔

اینگی ٹیمیں اور عدالتیں اس بات پر کام کر رہی ہیں کہ باقیات کو کیسے محفوظ طریقے سے ورثاء کے حوالے کیا جائے، خاص طور پر اُن صورتوں میں جہاں ڈی این اے خروجی نتائج فراہم نہ کر سکے۔ حکام نے ایسے خاندانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ممکنہ تمام معلومات فراہم کریں تاکہ شناخت کے عمل میں مزید مدد ہو سکے۔

سماجی و قانونی اثرات

گل پلازہ سانحہ نے معاشرے کے دلوں میں خوف، غم، اور سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ بہت سے افراد، سماجی رہنما اور سیاسی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ اگر بہتر حفاظتی اقدامات اور مضبوط حفاظت کے اصول مقامات تجارتی مراکز میں پہلے سے ہوتے تو کیا اس سانحے کو روکا جاسکتا تھا؟ حکومتی اور غیر حکومتی تنظیموں کو بھی پریہ تفتیش، رپورٹ اور سخت حفاظتی قوانین کے لئے آوازیں بلند کرنی پڑ رہی ہیں۔

 نتیجہ: ایک الم ناک سانحہ اور طویل جدوجہد

سانحہ گل پلازہ نہ صرف ایک تاریخی سانحہ ہے بلکہ وہ لمحہ بھی ہے جب انسانیت، ٹیکنالوجی اور قانونی نظام ایک ساتھ آزمائے گئے۔ 40 سے زائد افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہو جانا ہماری معاشرتی، انتظامی اور سائنسی حدود کی ایک حقیقت ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کتنی قیمتی ہے، اور حفاظت کے اقدامات کتنے ضروری ہیں۔

اگرچہ کچھ شناختیں ڈی این اے اور دیگر طریقوں سے ہو رہی ہیں، مگر بہت سی شناختیں ابھی تک نامکمل ہیں اور لواحقین کے لئے یہ صبر و تحمل کی ایک طویل جدوجہد ہے۔ حکومت، ڈاکٹروں، اور قانونی ٹیموں کے ساتھ مل کر معاشرہ اس غم کو بانٹ رہا ہے اور ایسے اقدامات کی توقع رکھتا ہے جو مستقبل میں ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment

پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ جیت لی: قومی ٹیم کی تاریخی کامیابی، شاندار کارکردگی اور مستقبل کے روشن امکانات

پاکستانی والی بال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگ کھلاڑیوں کو درست تربیت، بھرپور محنت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر بھ...