Monday, September 1, 2025

سندھ میں پولیو مہم کا آغاز: وفاقی وزیر صحت نے کی افتتاحی تقریب

 

کراچی، یکم ستمبر 2025 – سندھ کے مختلف اضلاع میں آج سے پولیو کے انسداد کے لیے ایک خصوصی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کی افتتاحی تقریب وفاقی وزیر صحت سید مصطفٰی کمال نے سپر ہائی وے کراچی پر منعقد کی۔ اس موقع پر متعدد سیاسی و سماجی رہنما بھی موجود تھے، جن میں ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے فرحان انصاری اور ایم این اے اقبال محسود شامل تھے 

مہم کا دائرہ اور اہداف

مہم صوبہ سندھ کے 25 اضلاع میں یکم تا 7 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر صحت نے عوام بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو لازماً قطرے پلائیں تا کہ آئندہ نسل معذوری جیسے خوفناک نتائج سے محفوظ رہ سکے

انسداد پولیو پروگرام کے حکام کے مطابق، ہزاروں تربیت یافتہ ورکرز “گھر گھر” جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بچہ اس مہم سے محروم نہ رہ جائے

وزیر صحت کا پیغام اور حکومتی موقف

وفاقی وزیر صحت نے اپنے خطاب میں کہا:

"پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، والدین اور سماجی تنظیموں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔"

انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ:

"آپ کا دشمن میں نہیں ہوں، کیا میں اپنے بچوں کو زہر دوں گا؟" — اس طرح انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا واحد مقصد بچوں کی حفاظت ہے، نہ کہ کسی کو مجبور کرنا 

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیو ورکرز کو کسی بھی گھر میں داخل ہونے کے لیے پولیس یا زبردستی کا استعمال نہیں کرنا، بلکہ "سمجھانے" کا طریقہ اختیار کیا جائے 

ملک گیر مہم کا پس منظر

یہ مہم دراصل ملک گیر انسداد پولیو مہم کا حصہ ہے، جس کا آغاز اسلام آباد میں بھی ہوا۔ ملک بھر میں تقریباً 99 اضلاع کو اس میں شامل کیا گیا ہے، اور مجموعی طور پر کروڑوں بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے 

وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر پولیو کے قطرے نہ پلائے گئے تو پاکستان میں ہر سال 25 ہزار کیسز رپورٹ ho سکتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ 156 اضلاع میں سے 78 اضلاع پولیو وائرس سے متاثر ہیں اور 27 ہزار بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا گیا ہے 

عام مہمات کا موازنہ: سندھ کے پچھلے اقدامات

اس مہم سے قبل، اس سال مئی میں بھی سندھ میں انسداد پولیو کی تیسری مہم شروع ہوئی تھی، جس کا افتتاح وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کیا تھا۔ اس دوران 30 اضلاع میں ایک کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو اور وٹامن اے کے قطرے پلانے کا ہدف تھا۔ تقریباً 80 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز نے 25 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے ہمراہ یہ ذمہ داری اٹھائی تھی 

پلانے کا وعدہ کیا گیا، اور تقریباً 69 ہزار 724 پولیو ورکرز کو تعینات کیا گیا اسی سے پہلے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک مہم کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جس میں ایک کروڑ 6 لاکھ بچوں کو قطرے 

نتیجہ

یہ تازہ پولیو مہم سندھ میں بچوں کی معذوری سے بچاؤ اور وائرس کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وفاقی وزیر صحت کا واضح اور دلجمعی سے دیا گیا پیغام — "میں آپ کا دشمن نہیں" — والدین کو قائل کرنے میں ایک مثبت حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین تعاون کریں، اور پولیو ورکرز کو کام کرنے کا پورا موقع فراہم کریں تاکہ ہر بچہ ویکسینیشن کی لپیٹ میں آجائے۔


No comments:

Post a Comment

پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششیں، آئی ایم ایف وفد کی آمد اور اہم مذاکرات

 بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جہاں اس نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتو...