Monday, September 1, 2025

پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض: ایک سنگین بحران

 

۲۰۲۵ کے مون سون سیزن نے پاکستان کے پنجاب صوبے کو ایک المناک کیفیت میں دھکیل دیا۔ اس دوران سیلاب سے جہاں دہائیوں کا ریکارڈ ٹوٹا، وہیں دریاؤں کی لپیٹ میں آنے والے لاکھوں افراد کے لیے وبائی امراض نے ایک نیا چیلنج کھڑا کیا ہے۔

سیلاب کا پس‌منظر

اگست ۲۰۲۵ میں پنجاب میں غیرمعمولی مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں کا پانی چھوڑنے کے باعث دریائے چناب، ستلج، اور راوی میں طغیانی آ گئی۔ نتیجتاً 1,400 سے زائد دیہات زیرِ آب آئے اور تقریباً 12 لاکھ افراد متاثر ہوئے، لاکھوں جانور اور فصلیں تباہ ہوئیں۔

وبا کا ابھرنا

سیلاب زدہ علاقوں میں پانی جمع ہونے، نکاسی آب نہ ہونے اور حفظانِ صحت کے بنیادی ڈھانچے کے ناکافی ہونے کی وجہ سے متعدد بیماریوں نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر ڈینگی، ڈائریا، ملیریا، جلدی امراض جیسے انفیکشنز عام ہو گئے ہیں۔

مریضوں کی تعداد میں بھاری اضافہ

محکمہ صحت کے مطابق:

  • لاہور میں صرف ایک 24 گھنٹے کے دوران 9 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے؛

  • پورے پنجاب میں دو ہفتوں کے اندر وبائی امراض نے 28 ہزار سے زیادہ متاثرین کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ |

یہ اعداد و شمار صحت کا نظام شدید دباؤ میں ہے، جبکہ طبی سہولیات اور ادویات کی ضروریات بن چکی ہیں۔

حکومتی اقدامات اور صورتِ حال

صوبائی وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے معاملے کے سنگینی کو تسلیم کیا اور ہدایت کی کہ:

  • پورے پنجاب میں میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں؛

  • وبائی امراض کے علاج کے لیے ادویات کی وافر مقدار یقینی بنائی جائے؛

  • نجی ہسپتال بھی اس مہم میں حصہ لیں، خاص طور پر مفت علاج کی سہولت فراہم کر کے۔ 

طبی سہولیات کا جغرافیہ

میڈیکل کیمپس عارضی طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ نجی ہسپتالوں کو بھی فری ٹریٹمنٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی، تاکہ مریضوں کا علاج مؤثر طریقے سے ہو سکے اور وبائی امراض کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

چیلنجز اور راہِ حل

چیلنجز:

  • پانی جمع ہونے سے سانچ و جراثیم کا خطرہ، جو جلدی امراض، ڈائریا اور ملیریا کا باعث۔

  • لوگ اکثر رفتہ رفتہ علاج کی سہولتوں تک پہنچنے میں ناکافی حالات کا شکار۔

  • متعدد علاقوں میں صحت عامہ کے بنیادی انفраструктچر کا ناکافی ہونا۔

ممکنہ حل:

  • ہنگامی سطح پر مداحاتی اقدامات جیسے واٹر ٹریٹمنٹ، مچھر مار ادویات، اور جلدی امراض کے لیے ٹاپیکل کریمیں دستیاب کرائی جائیں۔

  • بچاوُ کیمپوں میں حفظِ صحت کی توسیع؛ کھلے آسمان تلے رات گزاری جانے والی صورتِ حال کو بہتر بنایا جائے۔

  • نجی شعبے اور این جی اوز کے ساتھ مل کر شہری و دیہی کمیونٹیز میں شعور اجاگر کیا جائے، تاکہ بیماریوں کی روک تھام بہتر ہو۔

  • لمبے عرصے میں نکاسی آب کے نظام کو مستحکم کرنا انتہائی اہم ہے، تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment

پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششیں، آئی ایم ایف وفد کی آمد اور اہم مذاکرات

 بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جہاں اس نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتو...