سرکاری نرخنامے کی موجودگی اور مارکیٹ میں حقیقت
سرکاری نرخنامے کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتیں محدود رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم مارکیٹ میں ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں سبزیاں سرکاری نرخوں سے 50٪ تک زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ لیموں کی قیمت 100٪ تک بڑھ گئی ۔
اسی طرح دُنیا نیوز اردو کے مطابق پیاز، ٹماٹر، آلو، لہسن اور ادرک کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے نمایاں زیادہ ہیں—for instance، پیاز 140 کے بجائے 160، ٹماٹر 180 کے بجائے 220، لہسن 800 کے بجائے 400 فی کلو جیسی چونکا دینے والی صورتحال
حالیہ وقت میں قیمتوں کا جائزہ
بول نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں مختلف سبزیوں کے نرخوں میں 30 تا 80 روپے فی کلو تک فرق ریکارڈ کیا گیا ہے پیاز کا سرکاری نرخ 70 روپے فی کلو ہے، مگر بازار میں کہیں زیادہ ہے
پاکستان ٹوڈے کے مطابق حالیہ فلڈز اور بارشوں نے سپلائی چین متاثر کی، جس کے نتیجے میں آلو، پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک سمیت دیگر اشیاء سرکاری نرخوں سے دوگنا یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں for example، آلو A-grade کا سرکاری ریٹ 85–90 تھا لیکن مارکیٹ میں فی کلو 150 تک پہنچ گیا
آپریشنل ناکامی اور ضلعی انتظامیہ کا کردار
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ضلعی انتظامیہ اور ریٹ کنٹرول ٹیموں کی غفلت ہے۔ سرکاری نرخناموں کی پابندی کے باوجود، بازار میں قیمتیں من مانی طرز پر مقرر کی جا رہی ہیں، اور شکایت کرنے پر دکاندار "دوسری دکان پر جانے" کا مشورہ دیتے ہیں
پاکستان ٹوڈے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریٹ کنٹرول اقدامات یا تو ناکافی ہیں یا عملی طور پر صورتِ حال کا قابو نہیں
عوامی ردعمل اور مستقبل کی تصویر
شہریوں میں احساسِ محرومی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ شدمان مارکیٹ کے ایک صارف علی احمد نے کہا:
"پرائس کنٹرول ٹیمیں کہیں نظر نہیں آتیں، ہر دکاندار اپنی مرضی سے نرخ لگا رہا ہے"
ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئی ہے کہ اگر نقصان پہنچنے والی رسد اور خاموش انتظامی رویہ جاری رہا تو قریبی ہفتوں میں یہ صورتحال مزید تشویشناک ہو جائے گی
نتیجہ
لاہور میں سرکاری نرخناموں کے باوجود سبزیوں کی قیمتوں میں ایک طرح کی "بھانگ" نظر آتی ہے—جہاں دکاندار من مانی قیمتیں مقرر کر کے منافع کمانے پر تلے ہوئے ہیں۔ فلڈز و موسمی اثرات نے رسد کو متاثر کیا، مگر اصل چیلنج انتظامیہ کی جانب سے مناسب نگرانی نہ ہونا ہے۔ اگر قیمتوں کا کنٹرول شفاف اور مؤثر طور پر نافذ نہیں ہوا تو عام شہری کا بوجھ مزید بڑھے گا۔رکھ پا رہے، جس سے عوامی اعتماد میں کمی کا خطرہ بڑھ رہا ہے
No comments:
Post a Comment