رات دیر گئے 31 اگست کی شب پاکستان وقت تقریباً 11:47 پر افغانستان کے مشرقی حصے میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ دیہات کو مٹاتا، راستے بند کرتا اور مدد کو ناممکن بنا دیا۔
زلزلے کی شدت اور مرکز
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، اس زلزلے کی شدت 6.0 تھی اور اس کا مرکز جلال آباد، صوبہ ننگرہار کے قریب تھا۔ اس کی گہرائی صرف 8 کلومیٹر تھی—یہ بات اس کی تباہی کی شدت میں اضافہ کا باعث بنی کیونکہ کم گہرائی والے زلزلے زیادہ شدید اثرات مرتب کرتے ہیں
جانی نقصان اور زخمیوں کی تعداد
حالیہ اطلاعات کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 800 افراد ہلاک اور تقریباً 2,500 سے 2,800 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ ابتدائی رپورٹوں میں 622 ہلاکتوں اور 1,500 زخمیوں کی بات کی گئی تھی، لیکن جیسے جیسے امدادی ٹیمیں دور افتادہ علاقوں تک پہنچیں، اموات اور زخمیوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا
متاثرہ علاقوں کی صورتحال
سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ کنڑ (Kunar) میں ہوا، جہاں کئی گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ نُرگل (Nurgal)، سُوکی (Soki)، واٹپور (Watpur)، منوگی (Manogi) اور چپہدرہ (Chapadare) اضلاع خاص طور پر متاثر ہوئے ۔ پہاڑی علاقوں میں مکانات مٹی و پتھر سے بنے ہونے کے باعث یہ تباہی اور بڑھ گئی۔
امدادی کام اور مشکلات
رہی سہی کسر بعد کے جھٹکوں (aftershocks)، لینڈ سلائیڈنگ اور خراب انفراسٹرکچر نے پوری کر دی۔ انفراسٹرکچر کی تباہی اور مواصلاتی مسائل نے ریسکیو آپریشنز کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ۔ سرکاری معلومات کے مطابق ہیلی کاپٹرز اور زمینی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں، لیکن صحیح اعداد و شمار کی تکمیل ابھی تک جاری ہے۔
بین الاقوامی اور مقامی ردعمل
طالبان حکومت نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں اور مریضوں کی منتقلی کے لیے جہاز اور ہیلی کاپٹر متحرک کیے ہیں، ساتھ ہی اقوام متحدہ نے بھی امدادی ٹیموں کو بھیجا ہے ۔ ایران نے طبی سامان کی پیشکش کی اور پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک نے اظہار یکجہتی کیا۔
افغانستان کی تاریخی حساسیت
گزشتہ برسوں میں افغانستان متعدد شدید زلزلوں کا شکار رہا ہے۔ جون 2022 میں آنے والے زلزلے میں تقریباً 1,000 سے زائد افراد ہلاک اور 2,900 زخمی ہوئے تھے ۔ یہ حالیہ زلزلہ بھی اسی موسمیاتی خطرے کا تسلسل ہے، کیونکہ افغانستان ہندوکش کے زیراثر زلزلہ خیز علاقے میں واقع ہے
No comments:
Post a Comment