Friday, September 5, 2025

شہباز شریف کا فلسطین کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ، فلسطینی وفد اور امام مسجد اقصیٰ سے ملاقات

 

پاکستان اور فلسطین کے تعلقات ہمیشہ ایک مضبوط نظریاتی اور دینی رشتے کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ پاکستان کی قیادت نے ہر دور میں فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی اور ان کے جائز حقوق کی حمایت کی ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیرِاعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں ایک اہم ملاقات کے دوران فلسطینی وفد اور امام مسجد اقصیٰ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس ملاقات میں نہ صرف فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی بلکہ پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل مؤقف کو بھی ایک بار پھر واضح کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین کی آزادی صرف فلسطینی عوام کا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، ہر حال میں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ صرف فلسطین کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس کی حفاظت سب مسلمانوں پر لازم ہے۔

فلسطینی وفد نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فلسطینی عوام پاکستان کو ہمیشہ ایک بھائی ملک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وفد نے بتایا کہ فلسطینی عوام آج بھی مشکلات اور ظلم و ستم کے باوجود آزادی کے عزم پر قائم ہیں۔ امام مسجد اقصیٰ نے اس ملاقات میں کہا کہ پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت فلسطینی کاز کو دنیا بھر میں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیرِاعظم نے عالمی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا فلسطین کے مسئلے کو انصاف اور انسانی حقوق کی بنیاد پر حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جارحیت اور ظلم عالمی قوانین اور انسانی قدروں کے خلاف ہے۔ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قانون کے مطابق فلسطین کے قیام کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اس ملاقات میں پاکستان کے مختلف وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے فلسطینی وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر بلکہ عالمی فورمز پر بھی فلسطین کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کرتا رہے گا۔

شہباز شریف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے امدادی پیکج اور تعلیمی وظائف میں بھی اضافہ کرے گا تاکہ فلسطینی نوجوان تعلیم حاصل کر کے اپنے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے فلسطینی طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھیں گے۔

یہ ملاقات اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان، امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل کو اپنی خارجہ پالیسی میں اولین حیثیت دیتا ہے۔ فلسطین کے ساتھ پاکستان کا رشتہ صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک جذباتی، نظریاتی اور ایمانی وابستگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پاکستانی دل سے فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدوجہد آزادی فلسطین کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون اور عالمی سطح پر کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ دنیا کے بدلتے حالات میں فلسطین کا مقدمہ مزید مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے، اور پاکستان اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

یہ ملاقات پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ فلسطین کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کا تحفظ پاکستان کے ایمان اور نظریے کا حصہ ہے۔ پاکستانی عوام اس جدوجہد میں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کل بھی کھڑے تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔

No comments:

Post a Comment

پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ جیت لی: قومی ٹیم کی تاریخی کامیابی، شاندار کارکردگی اور مستقبل کے روشن امکانات

پاکستانی والی بال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگ کھلاڑیوں کو درست تربیت، بھرپور محنت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر بھ...