امتِ مسلمہ کے لیے جشنِ عید میلادالنبی ﷺ ہمیشہ ہی عقیدت، محبت اور ایمان افروز لمحات کا باعث رہا ہے، مگر اس سال ایک تاریخی پہلو مزید اہمیت کا حامل ہے کہ یہ موقع نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے 1500 برس مکمل ہونے پر منایا جا رہا ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان اس موقع پر نہ صرف اپنے گھروں، مساجد اور شہروں کو روشنیوں سے مزین کر رہے ہیں بلکہ سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اپنے کردار کو سنوارنے کا عہد بھی دہرا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پرمسرت موقع پر قوم سے خصوصی پیغام میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو جہالت، ظلم اور اندھیروں سے نکال کر انصاف، مساوات اور رحمت کی راہوں پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات میں رنگ، نسل، زبان اور قبیلے کی کوئی تفریق نہیں، بلکہ انسانیت کی بھلائی اور امن کا جامع پیغام موجود ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو حضور ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق کس حد تک ڈھال پائے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر بالخصوص نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ سیرتِ طیبہ کو بھی رہنمائی کا سرچشمہ بنانا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے علم حاصل کرنے کو امت کے ہر فرد پر لازم قرار دیا، لہٰذا علم و تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنا ہی عین سنت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس مقدس موقع پر ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ملک میں رواداری، بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دیں گے۔ عید میلادالنبی ﷺ محض چراغاں یا محفلوں کا نام نہیں بلکہ یہ دن ہمیں اپنی اصلاح، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور امن قائم کرنے کا سبق دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت کئی چیلنجز سے گزر رہا ہے، لیکن اگر ہم حضور ﷺ کے دیے ہوئے اخوت اور قربانی کے اصولوں کو اپنائیں تو کوئی رکاوٹ ہمیں ترقی و خوشحالی کی راہوں سے نہیں روک سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں معاف کرنے، غریبوں کی مدد کرنے اور انسانیت کے دکھ درد میں شریک ہونے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو حضور ﷺ کے پیغام کو زندہ کرتے ہیں۔
اس موقع پر ملک بھر میں جلوس، محافلِ نعت اور علمی کانفرنسوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے جہاں علمائے کرام اور دانشور سیرت النبی ﷺ پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ علما کا کہنا ہے کہ اس 1500 سالہ سنگِ میل پر ہمیں سیرت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو موجودہ دور کے مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں، مثلاً معاشی انصاف، عدل، خواتین کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ جیسے معاملات۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا آج بھی ظلم، جنگوں اور ناانصافی کے سائے میں مبتلا ہے۔ ایسے میں اگر انسانیت کو حقیقی نجات مل سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے عملی نفاذ سے ہے۔ اسی لیے وزیراعظم کا یہ پیغام محض رسمی بیان نہیں بلکہ ایک اجتماعی فلاحی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔
عید میلادالنبی ﷺ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حضور ﷺ کی ولادتِ باسعادت کائنات کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس تاریخی لمحے کو محض جشن تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے عمل سے دنیا کو دکھائیں کہ ہم واقعی اُس نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
No comments:
Post a Comment