سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب کے دوران اپنے خطاب میں خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں بھارت اور روس جیسے اہم ممالک بھی واشنگٹن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق موجودہ انتظامیہ کی کمزور سفارتکاری اور غیر واضح حکمتِ عملی نے عالمی توازن بگاڑ دیا ہے، جس کے باعث امریکہ کے پرانے اتحادی بھی اپنی راہیں جدا کرنے پر مجبور ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ماضی میں امریکہ کا قریبی شراکت دار رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں نئی دہلی نے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات مزید گہرے کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کے اتحادی اپنی معاشی اور دفاعی پالیسیوں کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت جیسا ملک، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، اگر امریکہ سے دور ہو رہا ہے تو یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
روس کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین جنگ کے تناظر میں واشنگٹن نے جو سخت پابندیاں عائد کی ہیں، اس نے ماسکو کو مزید بیجنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق روس کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کے بجائے بہتر سفارتکاری کے ذریعے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہیے تھے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو روس کو اتنا قریب نہ آنے دیتے کہ وہ چین کے ساتھ دفاعی اور تجارتی معاہدوں میں الجھ جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ چین، روس، بھارت، ایران اور دیگر ممالک نئے اتحاد بنا رہے ہیں جنہیں مغربی دنیا کے اثر و رسوخ سے آزاد سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا اور کہا کہ یہ وقت ہے جب واشنگٹن کو اپنی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں موجودہ امریکی صدر پر براہِ راست تنقید کی اور کہا کہ ناقص خارجہ پالیسی کے نتیجے میں امریکہ کا عالمی مقام کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر منظم انخلا، یوکرین جنگ پر غیر متوازن مؤقف، اور مشرق وسطیٰ میں غیر واضح حکمت عملی نے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اپنی پالیسیوں کو درست نہ کیا تو یورپی اتحادی بھی دھیرے دھیرے اعتماد کھونا شروع کر دیں گے۔ ان کے مطابق نیٹو ممالک میں بھی اب یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ واشنگٹن پر کتنا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ امریکہ کو عالمی تعلقات میں دوبارہ سے "معاملہ فہمی" کی پالیسی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا میں اس کی قیادت کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ مستقبل میں امریکہ کو اقتصادی شراکت داری، باہمی احترام اور بااثر سفارتکاری پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سیاست میں نئے اتحاد ابھر رہے ہیں۔ "برکس" جیسے پلیٹ فارمز پر بھارت اور روس کی شمولیت اور ان کا فعال کردار، اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا کی اجارہ داری اب کمزور پڑ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات دراصل امریکی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش ہیں کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو امریکہ اپنی عالمی برتری واپس حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں، ٹرمپ کے الفاظ امریکہ کی اس بڑھتی ہوئی پریشانی کو ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اپنی پرانی ساکھ بحال کر پائے گا یا دنیا نئے اتحادوں کے ساتھ ایک بالکل مختلف سمت میں بڑھ جائے گی؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔
No comments:
Post a Comment