محمد بن سلمان، جو ستمبر 1985 میں پیدا ہوئے، اپنی تیز رفتار طاقتور ابھار کے سبب آج سعودی عرب کے سب سے اثرانداز رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے نظامِ حکمرانی میں کئی اہم تبدیلیاں لا کر اپنی گرفت مضبوط کی اور خود کو ملک کے غیر رسمی حکمران کے طور پر مستحکم کیا۔
اولین منصوبہ: اقتدار کی خفیہ پیش رفت
-
2015 میں دفاعی اختیارات کا حصول:جب 2015 میں شاہ سلمان تخت پر آئے، تو محمد بن سلمان کو وزارت دفاع، اقتصادی ترقی اور آرمکو جیسی طاقتور پوزیشنز سے نوازا گیا
-
شاہی جانشین کا دروازہ کھولنا:جون 2017 میں انہیں ولی عہد مقرر کیا گیا، جبکہ مرحوم محمد بن نائف کو ہٹا کر گھر میں نظر بند کر دیا گیا
ثانوی مرحلہ: طاقت کا غیر متنازع قبضہ
-
رِٹس-کارلٹن نظربندی (پرج):نومبر 2017 میں سعودی شہزادے، سرکاری اہلکار اور طاقتی کاروباری شخصیات کو رِٹس-کارلٹن ہوٹل میں حراست میں لیا گیا۔ سرکاری طور پر کرپشن کے خلاف کارروائی دکھائی گئی، جبکہ حقیقت میں یہ اقتدار کے لیے صفایِ بازار تھی
-
مجموعی گرفت کا مقصد:اس سے محمد بن سلمان نے روایتی رائل خاندان کے تناو گفتار اور قدامت پسند طاقتوں کو غیر موثر کر کے اقتدار کو پوری طرح اپنا کر لیا ۔
تیسرا مرحلہ: اصلاحات کا جماع اور معاشرتی تبدیلی
-
سوشل اور اقتصادی اصلاحات:رؤیا 2030 (Vision 2030) کے تحت معیشت کو تیل سے آزاد کر کے متنوع بنایا جا رہا ہے، اُردو میں ‘ریلائز’ جیسے منصوبے شامل ہیں: نیوم (NEOM)، ورژن سیٹی (The Line)، اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، جو Uber، SoftBank وغیرہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے
-
ثقافتی نرمش:مذہبی پولیس کے اختیارات محدود کیے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ، کاروبار اور تفریح میں شراکت دی گئی، اور فلم شوز، کنسرٹس اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے i
چہارم مرحلہ: سکیورٹی و سیاسی مضبوطی
-
تمام سکیورٹی اداروں پر کنٹرول:محمد بن سلمان نے سیاسی اور مذہبی حکومت کے چیک و بیلنس کو ختم کر کے سکیورٹی فورسز — فوج، نیشنل گارڈ اور پولیس پر اپنی مکمل گرفت مضبوط کی ۔
-
اپوزیشن کا خاتمہ:مذہبی علما، کارکنان اور آزاد سوچ رکھنے والے افراد کی حراست کے ذریعے کسی بھی سیاسی ناقد کو خاموش کر دیا گیا
No comments:
Post a Comment