Tuesday, September 2, 2025

غیر معمولی سیلاب کے باعث بیماریوں کا پھیلاؤ: قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری

پاکستان میں حالیہ غیر معمولی سیلاب نے نہ صرف جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے بلکہ صحت عامہ کے مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ قومی ادارہ صحت (NIH) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔()


سیلاب کے بعد صحت عامہ کے مسائل

سیلابی پانی میں آلودگی، پینے کے صاف پانی کی کمی، اور ناقص حفظان صحت کے انتظامات کی وجہ سے مختلف وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خصوصاً اسہال، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، جلدی امراض، اور لیپٹوسپائروسس جیسے انفیکشنز نمایاں ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ چون ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں بھی سیلابی صورتحال کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ 


قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری

قومی ادارہ صحت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اور اقدامات تجویز کیے ہیں:

  1. پینے کے صاف پانی کی فراہمی: متاثرہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔()
  2. حفظان صحت کی سہولتیں: عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں اور آلودہ پانی کے رابطے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔()
  3. ادویات اور ویکسین کی فراہمی: متاثرہ علاقوں میں اسہال، ملیریا، اور ڈینگی کی روک تھام کے لیے ادویات اور ویکسین فراہم کی جائیں۔ 
  4. موبائل ہیلتھ یونٹس کا قیام: دور دراز علاقوں میں فوری طبی امداد کے لیے موبائل ہیلتھ یونٹس قائم کیے جائیں۔ 
  5. عوامی آگاہی مہم: عوام کو بیماریوں کی علامات، احتیاطی تدابیر، اور صحت کے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے مہم چلائی جائے۔(


صوبائی اور وفاقی سطح پر اقدامات

صوبائی حکومتیں اور وفاقی ادارے بھی سیلاب سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس بلایا ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔ 

بین الاقوامی امداد اور تعاون

بین الاقوامی برادری بھی پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئی ہے۔ چین نے سیلاب متاثرین کے لیے 30 ہزار خیمے، 50 ہزار کمبل، اور 50 ہزار واٹر پروف ترپالیں فراہم کی ہیں۔ علاوہ ازیں، عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ 


نتیجہ

غیر معمولی سیلاب نے جہاں ایک طرف قدرتی آفات کی شدت کو ظاہر کیا ہے، وہیں دوسری طرف صحت عامہ کے مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری اور حکومتی اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ عوامی تعاون، بین الاقوامی امداد، اور حکومتی اقدامات کے ذریعے ہی اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔


No comments:

Post a Comment

پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششیں، آئی ایم ایف وفد کی آمد اور اہم مذاکرات

 بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جہاں اس نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتو...