Monday, February 2, 2026

افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، خواجہ آصف کا سخت مؤقف

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی تشویش ناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا افغان حکام کو اس معاملے پر توجہ دلانے کی کوشش کر چکا ہے، مگر اس کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے افغان عوام کی مدد کی، مہاجرین کو پناہ دی اور ہر مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ عناصر افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کے اندر ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ سرحد کے دوسری جانب محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو خطے میں عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں چاہتا۔ تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کی حکومت کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں شہری اور فوجی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو بھی دہشت گردی کے باعث شدید نقصان پہنچا۔ اب پاکستان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ منظم ہو کر پاکستان کے امن کو تباہ کریں۔

خواجہ آصف نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کا حل مذاکرات اور تعاون سے ممکن ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کریں اور سرحدی علاقوں میں امن قائم کریں۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرے۔

آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مقصد کسی بھی ملک کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ امن اور استحکام ہے۔ لیکن اگر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔ افغانستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہو سکیں اور خطے میں امن قائم رہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سرحد پار موجود شدت پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ مستقبل میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ افغان حکومت دہشت گردی کے مسئلے پر کس حد تک سنجیدگی دکھاتی ہے۔

 

No comments:

Post a Comment

پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ جیت لی: قومی ٹیم کی تاریخی کامیابی، شاندار کارکردگی اور مستقبل کے روشن امکانات

پاکستانی والی بال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگ کھلاڑیوں کو درست تربیت، بھرپور محنت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر بھ...