Wednesday, February 25, 2026

کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، امن کو چیلنج کرنے والی کارروائی

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اس افسوسناک حملے نے نہ صرف سیکیورٹی صورتحال پر سوال اٹھایا بلکہ عوام میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں میں ہونے والی سیکیورٹی سرگرمیوں کے دوران پیش آیا، پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ نامعلوم دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر دیا، حملہ اتنا شدید تھا کہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور کئی اہلکار موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، شہداء میں ایک سینئر پولیس افسر بھی شامل تھے جن کی شہادت کو فورس کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آواز دور دور تک سنائی دیتی رہی، علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے، حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ملک پاکستان میں سیکیورٹی ادارے پہلے ہی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے متحرک ہیں، حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث سیکیورٹی فورسز نے گشت اور انٹیلی جنس کارروائیوں کو مزید تیز کر رکھا ہے

حملے کے بعد پولیس حکام نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ فورس کا مورال بلند ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں

دوسری جانب مقامی آبادی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا، شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں، اس لیے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بہتر وسائل اور تحفظ فراہم کیا جائے، کئی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے

سیاسی رہنماؤں نے بھی حملے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، اگر معاشرہ متحد رہے تو دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے

ماہرین سیکیورٹی کے مطابق ایسے حملوں کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی اداروں کو کمزور دکھانا ہوتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی کارروائی کافی نہیں بلکہ انٹیلی جنس، مقامی تعاون اور سماجی استحکام بھی ضروری ہیں، جب تک شدت پسندی کے اسباب پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک مکمل امن کا خواب پورا ہونا مشکل رہے گا

حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، چیک پوسٹوں پر نگرانی بڑھا دی گئی اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے، حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے

یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امن کی قیمت بہت بڑی ہوتی ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش درکار ہوتی ہے، شہداء کی قربانی قوم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن عزم اور اتحاد کے ساتھ اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے

No comments:

Post a Comment

پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششیں، آئی ایم ایف وفد کی آمد اور اہم مذاکرات

 بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جہاں اس نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتو...