کراچی (تاریخ: 26 اگست 2025) – یونان پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (GPCCI) اور پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (Memorandum of Understanding – MoU) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے متعلق اپنے عزم کا اظہار کیا ۔
دستخط کرنے والے عہدیدار
معاہدے پر دستخط GPCCI کی بانی و صدر محترمہ روبینا مارکوپولو (Rubina Markopoulou) نے کیے جبکہ PAJCCI کی جانب سے دستخط صدر جنید مکدا (Junaid Makda) نے انجام دیے۔ اس تقریب میں ICC پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ۔
مفاہمت کی یادداشت کے مقاص
یہ MoU تین ممالک پاکستان، افغانستان اور یونان — کے درمیان تجارتی شراکت داری کو مضبوط کرنے اور مشترکہ کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک معاون منصوبہ ہے۔ معاہدے کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
- کاروباری رابطہ کاری (Networking): تاجر برادری کے درمیان باہمی روابط بہتر بنانا، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد اور تجارتی وفود کی تبادلہ کاری پر زور دینا ہے ۔
- اعلان مشترکہ منصوبے: مشترکہ کاروباری منصوبے (Joint Ventures) کی حوصلہ افزائی تاکہ مارکیٹ کی رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں ۔
- علاقائی اقتصادی رابطوں کو فروغ: خطے میں تجارتی وسعت بڑھانے اور نئی مارکیٹس کو تلاش کرنے کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم قائم کرنا ۔
PAJCCI کا پس منظر
PAJCCI PAJCCI دراصل چند تجارتی تنظیموں کا اشتراک ہے: کراچی چیمبر آف کامرس، چمن چیمبر آف کامرس، خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس، اور افغانستان چیمبر آف کامرس۔ یہ باہمی تجارت، تاجر وفود کے تبادلے، اور تجارتی سہولیات کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے اور پاکستان و افغانستان دونوں حکومتوں سے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ادارہ ہے
اس معاہدے کی اہمیت
- مسابقتی برتری: یونان اور پاکستان و افغانستان کے تاجروں میں تجارتی تعلقات کو بنیاد بنا کر، خطے میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کا اہم قدم ہے۔
- اقتصادی ہم آہنگی: اس طرح کی مفاہمت کی یادداشتیں بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے امکانات وسعت پاتے ہیں۔
- نئی بازاروں تک رسائی: یونان کے ذریعے یورپی مارکیٹ میں تجارت کے نئے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا بہترین موقع ملتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور دیگر اقدامات
یہ معاہدہ حالیہ عرصے میں ہوئے تجارتی اقدامات کے تسلسل میں اہم ہے۔ مثال کے طور پر، جولائی 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت دونوں ممالک نے مخصوص زرعی اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی میں قابلِ ذکر کمی کی ۔ اس PTA کے نتیجے میں تجارتی حجم میں اضافہ متوقع ہے، حالانکہ کچھ مسائل جیسے ویزا کے عمل اور ڈیوٹی میں عدم استحکام نے تجارت کو روکنے کے عمل کو متاثر کیا ہے .
نتیجہ
GPCCI اور PAJCCI کے درمیان MoU کی دستخط کی یہ خبر پاکستان کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف یونان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ دیتا ہے، بلکہ ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان کے تاجروں کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اقتصادی تعاون بڑھانا، کاروباری مواقع پیدا کرنا، اور خطے میں معاشی روابط کو مضبوط بنانا اس معاہدے کے بنیادی اہداف ہیں۔
یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی حالات میں مل کر کام کرنے کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے۔ GPCCI اور PAJCCI کے تاجروں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی ساحتی یا علاقائی حدود کو بڑھا کر نئے بازاروں میں قدم رکھیں
No comments:
Post a Comment